اگر اونچائی کی بات کریں تو ہماری زمین پر سب سے اونچا پوائنٹ ماؤنٹ ایورسٹ ہے جس کی اونچائی 8849 میٹر ہے

 

لیکن اگر زمین کی گہرائی کی بات کریں تو ابھی تک انسان سمندر میں 11022 میٹر تک جا چکا ہے یہ اتنی گہرائی ہے کہ یہاں تک پہنچنے کے بعد سمندر میں 3 ہی چیزیں رہ جاتی ہیں ایک وہاں بسنے والی آبی مخلوقات اور دوسرا اندھیرا اور تیسرا پھر اندھیرا یعنی کہ اندھیرا ہی اندھیرا، کیونکہ سورج کی روشنی وہاں تک نہیں پہنچ پاتی۔

 

اتنی گہرائی تک انسان جدید ٹیکنالوجی اور مشینوں کے ذریعے ہی جا سکا ہے کیونکہ ایک انسان کا وہاں تک جانا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ وہاں تک جانے کے بعد انسان کے اوپر کروڑوں ٹن وزنی آبی دباؤ پڑ چکا ہو گا جس کی وجہ سے انسان کی موت واقع ہو جاۓ گی اب تک سمندر کی گہرائی میں جانے کا انسانی ورلڈ ریکارڈ 332.35 میٹر ہے جو ایک مصری مسلمان (احمد) نے بنایا ہے
گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی آفیشل ویب سائٹ کے اس لنک میں آپ یہ ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں
عام روشنی کی ایک شعاع سات رنگوں سے مل کر بنتی ہے۔ یہ سات رنگ بالترتیب ، بنفشی، کاسنی، نیلا، سبز، پیلا، نارنجی، سرخ ہیں جو آپ نے اکثر قوس قزح (Rainbow) میں دیکھے ہوں گے

 

روشنی کی شعاع جب پانی میں داخل ہوتی ہے تو ریفریکشن Refraction کے عمل سے گزرتی ہے اوپر کے دس سے پندرہ میٹر کے دوران پانی میں سرخ رنگ جذب ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی غوطہ خور پانی میں پچیس میٹر کی گہرائی تک جا پہنچے اور زخمی ہو جائے تو وہ اپنے خون میں سرخی نہیں دیکھ پائے گا کیونکہ سرخ رنگ کی روشنی اتنی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتی، اسی طرح تیس سے پچاس میٹر تک گہرائی آتے آتے نارنجی روشنی بھی مکمل طور پر جذب ہو جاتی ہے….. پیلی روشنی پچاس سے ایک سو دس میٹر تک…… سبز سو سے دو سو تک….. نیلی روشنی دو سو میٹر سے کچھ زیادہ تک……جبکہ کاسنی اور بنفشی روشنی اس سے بھی کچھ زیادہ گہرائی تک پہنچے پہنچتے مکمل طور پر جذب ہو جاتی ہیں۔ پانی میں رنگوں کے اس طرح ترتیب وار غائب ہونے کی وجہ سے سمندر بھی تہہ در تہہ کرکے تاریک ہوتا چلا جاتا ہے، یعنی اندھیرے کا ظہور بھی روشنی کی پرتوں کی شکل میں ہوتا ہے، چھ ہزار میٹر سے زیادہ کی گہرائی میں مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔ اور آپ اپنے ہاتھ کو بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہتے۔

 

آج کے جدید دور میں آکسیجن ٹینک سمیت اور جسم کو پوری طرح حفاظت میں رکھ کر بھی انسان 332 میٹر سے زیادہ گہرائی تک نہیں جا سکا تو پھر 1400 سال پہلے کون تھا جو 6000 میٹر گہرائی میں جا کر مکمل اندھیرا دیکھ کر آیا تھا اور یہ باتیں قرآن میں لکھ گیا ؟

 

” یا پھر ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی گہرے سمندر میں پھیلے ہوئے اندھیرے، کہ سمندر کو ایک موج نے ڈھانپ رکھا ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، اور اس کے اوپر بادل، غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے۔ اگر کوئی اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ اور جس شخص کو اللہ کا ہی نور حاصل نہ ہو، تو اس کیلئے کوئی نور نہیں۔ “
(سورۃ 24 النور – آیت 40)

 

دنیا میں بہت سے لوگ ابھی تک زمین کو فلیٹ مانتے ہیں اور ان کی سوچ پوری دنیا سے الگ ہے اور اس میں مسلمانوں کی بھی بھاری تعداد شامل ہے
میں حیران ہوتا ہوں ایسے مسلمانوں پر جو اکثر سائنس کے خلاف بولتے ہوۓ نظر آتے ہیں کیونکہ جب سے میں Astronomy کی فیلڈ میں آیا ہوں تو قدم قدم پر میرے ایمان میں اضافہ ہو رہا ہے تقریباً ہر روز مجھے قرآن کی آیتیں جدید سائنس کو ثابت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور یہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ اس خالق کا کلام ہے جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے

 

ایک طرف یہ فلیٹ ارتھر اور دوسری طرف ملحدین، یہ دونوں طبقے سائنسی علم سے بھی ناواقف ہیں اور مذہبی علم سے بھی ناواقف ہیں اور اپنی ذہنی فضولیات کو سائنس یا مذہب کا نام دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن اگر آپ غیر جانبدار ہو کر پڑھیں تو آپ کو اسلام اور سائنس میں غیر معمولی مطابقت نظر آۓ گی

 

” عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں اطراف عالم میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟ “
(القرآن – سورۃ 41 فصلت – آیت 53)

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *